نئی دہلی، 6 /اکتوبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز)مرکزی انفارمیشن کمیشن(سی آئی سی)نے ملک کی سب سے بڑی جیل تہاڑ سے کہا ہے کہ وہ ایسے قیدیوں کو معاوضہ دینے کا ایک انتظام تیار کرے جنہیں ان کے لئے مقرر کی گئی سزا سے زیادہ وقت تک جیل میں بند رکھا گیا۔سی آئی سی نے جیل حکام کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ ایسے قیدیوں کو معاوضہ دینے کے عمل کی معلومات خودکار طورپردیں کیونکہ حقوق اطلاعات(آر ٹی آئی) قانون کے تحت یہ ان کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔انفارمیشن کمشنر سریدھرآچایرل نے اپنے حکم میں کہا کہ عجیب بات ہے کہ عدالتوں نے معاوضہ دینے کے معاملے میں ممبر اسمبلی اور عام آدمی سے مختلف سلوک کیا۔رودل شاہ نامی ایک غریب قیدی کو ان کی مقرر سزا سے 14سال زیادہ جیل میں رکھا گیا لیکن انہیں معاوضے کے طور پر صرف 30000روپے دیے گئے جبکہ ممبر اسمبلی بھیم سنگھ کو ایک دن غلط طریقے سے قید کیا گیا تو انہیں معاوضے کے طور پر 50000روپے دیے گئے۔حال کے ایک معاملے میں ایک اور غریب شہری کو 113دن اضافی جیل کاٹنے پر محض 50000روپے کا معاوضہ دیا گیا۔عدالت کے حکم سے چار دن سے زیادہ تہاڑ جیل میں گزارنے کا دعوی کرنے والے اے پی گاندھی کی درخواست پر سی آئی سی نے یہ حکم دیا۔اچایرل نے کہا کہ انہیں جیل حکام کی طرف سے 2500روپے فی دن شرح سے علامتی معاوضہ دیا جانا چاہئے اور ان کی طرف سے کئے گئے اخراجات کی وجہ سے انہیں 1000روپے اضافی دئے جائیں۔سی آئی سی نے کہا کہ حکومت سے دوستانہ انتظامیہ کی توقع رہتی ہے۔جیل افسر قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور نہ ہی عدالتیں علاج سے انکار کر سکتے ہیں،اگر اس تعلیم یافتہ اور بہادردرخواست گزار نے زیادہ وقت تک قید کرکے رکھے جانے کا مسئلہ نہیں اٹھایا ہوتا تو اس آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کسی کو پتہ ہی نہیں چل پاتا۔اچایرل نے کہا کہ جب 11اگست 2014کو سزا معافی کا حکم دیا گیا تھا تو درخواست کنندہ کو اسی دن رہا کر دیا جانا چاہیے تھا۔